یادداشت: محترمہ سیدہ گل زہراء رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
کتابوں میں پڑھتے تھے بڑوں سے سنتے تھے، 1986ء میں مینارِ پاکستان پر ایک قومی اجتماع ہوا تھا۔ قوم کیا ہوتی ہے، یہ آخری مرتبہ 2013/ 2014 کوئٹہ علمدار روڈ سانحے کے بعد دیکھا۔ اور قومی اجتماع کیا ہوتا ہے، یہ کل مینارِ پاکستان پر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ صبح بارہ بجے جب ہم نے پہلے دو داخلی پوائنٹس قائم کئے، سے لیکر رات 12 تک مسلسل ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے قافلے آتے رہے۔ مجمع کی کل تعداد کا اندازہ دو سے سوا دو لاکھ تک ہے۔ جو قریب از حقیقت ہے۔
منتظیمن کی انتھک محنت انتظامی امور میں نظر آ رہی تھی۔ اتنے بڑے مجمع کے انتظامی مسائل بخوبی مینج کئے گئے تھے۔
مختلف سکائوٹس تنظیمیں آئی ڈی سی، وحدت یوتھ، المصطفی سکائوٹس امامی سکائوٹس خلوص کے ساتھ گرمی کے باوجود اپنا کام کرتے رہے، ان بچوں اور بچیوں کو سلام و شاباش۔
اتحاد امت فورم پر قوم کو جمع کرنا بالعموم تمام بزرگ علماء اور بالخصوص قبلہ علامہ امین شہیدی کا بڑا کارنامہ ہے اور وہی یہ کام کر سکتے تھے۔ تمام مرکزی تنظیموں کو ایک جگہ اکٹھا رکھنا اور اندرونی اختلافات کو پس پشت رکھوا کر مقصد کو سامنے رکھوانا بہت بڑی بات ہے۔ تحریک بیداری، امامیہ آرگنائزیشن آئی او، مجلس وحدت، آئی ایس او بھی اپنے کردار اور کاوشوں کیلئے قابلِ تحسین ہیں۔
شہید رہبر کے خون کا کم سے کم حق یہی تھا کہ تنظیمیں اپنے جھنڈے و انفرادی مقاصد پیچھے رکھ کر شہید رہبر کے لیے اکٹھے ہوں، جو کہ ہوا۔
اب جہاں اتنا بڑا اجتماع ہو، وہاں چھوٹے انتظامی مسائل ہو جاتے ہیں اور یہ سیکھنے کا عمل ہے۔ مثلا بزرگ افراد معذور و وہیل چیئر پر موجود افراد کیلئے پہلے پوائنٹ سے دوسرے اندرونی پوائنٹ تک مسلسل اور کافی تعداد میں شٹل سروسز ہونی چاہئے تھیں۔ پنڈال روشن تھا، لیکن سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر روشنی کا انتظام ناکافی تھا۔ ہمارے پاس نائٹ ویزن گلاسز اور ٹارچز نہ ہوتے تو کافی مشکل ہو جاتی۔ بہرحال یہ انتظامی مسائل ہیں جو وقت اور تجربے کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں۔
ہاں ایک بہت بڑی کمی، ہمیشہ کی طرح، خواتین کو سٹیج پر نمائندگی نہ دینا تھا۔ مجمع کی تعداد کا آدھا حصہ خواتین پر مشتمل تھا۔
ملک بھر سے بہترین، مدبر سپیکر خواتین موجود تھیں۔ نہ صرف یہ کہ انہیں سٹیج پر نہ بلایا گیا، بلکہ تقاریر میں ایک بھی تقریر کسی خاتون کی نہ رکھی گئی۔ مجمع کا جب پچاس فیصد خواتین پر مشتمل ہوتا ہے تو سپیکرز بھی کم سے کم آدھی خواتین ہونی چاہیں۔ قومی امور، پالیسی میکنگ، اجتماعات و احتجاج یا کسی بھی مشاورت کے عمل میں ملی سطح پر خواتین کو شامل نہیں کیا جاتا اور یہ ایک بڑی کمی ہے جس پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
بہرحال، مینار پاکستان پر ایک ایسا اتنا بڑا اجتماع ایک تاریخی کامیابی ہے۔ تمام انتظامیہ، ملی تنظیموں اور پوری قوم کو سلام و مبارکباد۔ اب ہم بھی آنے والے عشروں میں فخریہ بتائیں گے کہ قوم جب 2026 میں بیداری و وحدت کے مراحل سے گزر رہی تھی، ہم بحیثیت انفرادی، اور تنظیمی بطور آئی ڈی سی فرنٹ لائن پر موجود تھے۔ خلوص سے موجود تھے۔ بغیر کسی صلے و ستائش کی تمنا کے موجود تھے۔ اور یہی ہماری لیگیسی ہے۔









آپ کا تبصرہ